وطن کی یاد میں دن رات جلتے ہیں
سو مثلِ شمعِ فرقت ہم پگھلتے ہیں
ہمیں کہتے ہیں وہ زندیق اور کافر
لہو کے اشک آنکھوں میں مچلتے ہیں
بہت آسان ہے غدار کہنا، پر
جو سنتے ہیں وہ مشکل سے سنبھلتے ہیں
بہت طعنے سنے ہیں، پر بتاؤ تو
کہ مومن اپنے ایماں سے نکلتے ہیں ؟
لہو پھیلا ہے نفرت کی زمینوں میں
وفا کے پیڑ کب ایسے میں پھلتے ہیں

0
4