| مری بیوی ہمیشہ مجھ پہ پابندی لگاتی ہے |
| اسے مرضی چلانی ہے وہ بس اپنی چلاتی ہے |
| نہیں ٹی وی کے آگے بیٹھنے دیتی مجھے کچھ پل |
| نہ مانوں میں اگر اس کی مجھے آنکھیں دکھاتی ہے |
| مرا کچھ وقت موبائل پہ اچھا بیت جاتا تھا |
| نہ جانے کیوں وہ موبائل سے بھی اب خار کھاتی ہے |
| کہیں جانا پڑے مجھ کو اجازت پہلے لیتا ہوں |
| اگر تاخیر سے لوٹوں تو مجھ سے روٹھ جاتی ہے |
| مرا بٹوا مری جیبیں تو لگتا ہے اسی کی ہیں |
| کمائی پر مری، اپنا وہ ایسے حق جتاتی ہے |
| اسے تو مختصر لفظوں میں کچھ کہنا نہیں آتا |
| کوئی جب بات منوانی ہو گھنٹوں کان کھاتی ہے |
| بہت آزار ہیں اس کے، میں کیا کیا آج گن واؤں |
| مگر سچ ہے ادا اس کی مجھے ہر ایک بھاتی ہے |
| اسی کے دم سے ہے آباد گھر میرا یقیں جانو |
| گھرانہ جگمگاتا ہے وہ جب جب مسکراتی ہے |
| مرے بچوں کی ماں ہے وہ بہو ہے امی ابا کی |
| سبھی چھوٹے بڑوں سے خوب رشتہ وہ نبھاتی ہے |
| مرے ماں باپ کی خدمت بھی کرتی ہے توجہ سے |
| سبھی بچوں کو بھی وہ عادتیں اچھی سکھاتی ہے |
| وہ مجھ پر رعب رکھتی ہے اگرچہ سامنے سب کے |
| مگر خلوت میں جانِ جاں محبت سے بلاتی ہے |
| بنا اس کے تو جینے کا تصور ہی نہیں ممکن |
| یہ بیوی ہے جو اس دنیا کو بھی جنت بناتی ہے |
معلومات