| مرا زخمِ دل بھی تو برملا نہیں ہو سکا |
| وہ جو رنج تھا وہ کبھی ہوا نہیں ہو سکا |
| میں تلاشِ حق میں بھٹک رہا ہوں گلی گلی |
| جو فریب تھا، وہ مرا خدا نہیں ہو سکا |
| اسے زعم تھا کہ وہ چھین لے گا مری انا |
| مرا سر مگر کبھی زیر پا نہیں ہو سکا |
| وہ جو اک چراغ تھا روشنی کی امید کا |
| ہوا کی نظر ہوا، پر بجھا نہیں ہو سکا |
| نہ تپاکِ عزمِ سفر رہا، نہ وہ حوصلہ |
| میں سفر میں رہ کے بھی تو خفا نہیں ہو سکا |
| مری بندگی میں ہی رہ گئی کوئی اب کمی |
| مرا نالہ اب کے بھی تو رسا نہیں ہو سکا |
| جسے دل نے پوجا تھا عمر بھر بڑے چاؤ سے |
| وہی شخص مجھ سے ہی باوفا نہیں ہو سکا |
| وہ جو اک خلش تھی دبا سکا نہ میں عمر بھر |
| وہ جو ایک زخم تھا بھر گیا نہیں ہو سکا |
| مری خامشی ہی پکارتی رہی رات بھر |
| مرا مدعا مری التجا نہیں ہو سکا |
| میں چراغِ آخرِ شب سہی، مگر اے ہوا! |
| میں بجھا تو بھی یوں کہ جو دھواں نہیں ہو سکا |
| وہ جو آئینے کا نصیب تھا، وہی میرا تھا |
| میں بکھر گیا تو مگر فنا نہیں ہو سکا |
| اسے چاہنے کی سزا بھی کس کو سنائیے گا |
| کہ جو دل کا تھا، وہ بھی تو مرا نہیں ہو سکا |
| کہیں دشتِ جاں میں بھٹک گئی مری زندگی |
| میں رہِ طلب کا بھی وہ دیا نہیں ہو سکا |
| مری عاجزی ہی مرا گناہ بنی رہی |
| میں کسی کے در کا بھی تو گدا نہیں ہو سکا |
| وہ جو لکھ گیا مری بخت میں کوئی اور تھا |
| مرا مہرِ جاں تو مرا خدا نہیں ہو سکا |
| میں تو عمر بھر ہی مٹا رہا، مری جاں مگر! |
| مرا درد پھر بھی تو کم ذرا نہیں ہو سکا |
معلومات