عشق سولی جو نہ چڑھائے تو عظمت کیا ہے
ایسے بے کیف تعلق کی ضرورت کیا ہے
دل تو پہلے ہی ترے ہجر نے برباد کیا
اب اگر جاں بھی چلی جائے تو حیرت کیا ہے
ایک صورت جو جچے اس کو محبت کہہ لیں
دل ترا سب ہی پہ آئے تری فطرت کیا ہے
وہ مرے پاس سے منہ موڑ کے گزرے کیونکر
یہ قیامت جو نہیں ہے تو قیامت کیا ہے
میں نے بن مانگے لٹائی ہے وفا کی دولت
اہلِ دنیا کو بتاؤ کہ سخاوت کیا ہے
پھر تو چھائی ہوئی پیڑوں پہ اداسی دیکھی
جب پرندوں نے بتایا انہیں ہجرت کیا ہے
سسکیاں گونجنے لگتی ہیں سرِ شام وہاں
رب ہی جانے کہ پڑوسی کی اذیت کیا ہے
ایسا کرنا کہ اسے میرا پتا دے دینا
جاننا چاہے جو کوئی بھی کہ وحشت کیا ہے

0
7