یہ دنیا ایک میلہ ہے، یہاں سے سب کو جانا ہے
خوشی ہو یا کوئی غم ہو، اسے ہنس کر نبھانا ہے
سفر ہے زندگی کا یہ، سمیٹو تم دعا سب سے
یہی نیکی کا جذبہ ہی تمہارا اک خزانہ ہے
کبھی طوفانِ غم گھیرا کریں جب چار سو تم کو
خدا کے سامنے رونا سکوں کا اک بہانہ ہے
محبت کے چراغوں سے دلوں کو یوں منور کر
نہ دیواریں کھڑی کرنا، سفر آساں بنانا ہے
کبھی کوئی ضرورت ہو، مجھے آواز دینا تم
مرا کندھا تمہارا ہے، یونہی جیون بتانا ہے
تکبر آدمی کو کھوکھلا کر کے ہی چھوڑے گا
انا کا یہ کڑا رشتہ تعلق سے ہٹانا ہے
مصیبت میں نہ تم کو یہ انائیں کام آئیں گی
خلوصِ دل سے جذبوں کو وفا کی سمت لانا ہے

0
3