جیسے مجبور عورت بدن بیچ دے
حکمراں بے ضمیرا وطن بیچ دے
مولوی ہے کہ محراب میں بیٹھ کر
دین کے نام پر ہی گگن بیچ دے
ایسی دھرتی کا رونا بھی کیا روئیں ہم
جس جگہ پر سخنور سخن بیچ دے
بخشی خالق نے جس کو تخیل گری
وہ مصور بھی محنت لگن بیچ دے
کیا کرے پھر ریاست کا چوتھا ستون
جب صحافی صحافت کا فن بیچ دے
شیخ جی کیا ہے فتوی بتاؤ، اگر
کوئی بھوکا چرا کر کفن بیچ دے
بلبلیں پھول کلیاں کریں بھی تو کیا
باغباں جس گھڑی خود چمن بیچ دے
شکلِ انسان میں وہ تو شیطان ہے
نسل انساں کے جو زندہ تن بیچ دے

0
6