زخم زباں کے یوں نہ لگاؤ
مت لفظوں کے تیر چلاؤ
طعنوں کے ترکش کو چھوڑو
لہجے کے نشتر تو نہ چبھاؤ
نرم دلوں کو قریب بلاؤ
نرمی کی عادت کو اپناؤ
اپنے آپ پہ قابو پا لو
پھر دشمن پر قابو پاؤ
تم اخلاق سے دنیا جیتو
پیار سے سب کو دوست بناؤ

0
7