جو مٹتا نہیں ہے، فسانہ اسی کا
ہوا دہر میں اب، زمانہ اسی کا
مِٹایا تھا جس نے شہنشاہِ غم کو
وہ خود مٹ گیا، دہر شاہد بنا ہے
مگر ابنِ حیدر کا نقشِ قدم تو
زمانے کے عزم و عمل کی جِلا ہے
یزیدی تھا اک بلبلہ جو مٹایا
زمانے کی لہروں نے اک پل میں اس کو
حسینؑ ایک ایسا سمندر ہے جس نے
دیا اپنے سجدوں سے ساحل میں اس کو
حکومت تھی اس کی فقط چند روزہ
رہی تاجداریِ شب بس وہیں تک
مگر نورِ شبیرؑ پھیلا ہے ایسے
سحر جس کی پہنچی ہے چرخِ بریں تک
مُحرم ہمیں یہ سبق دے رہا ہے
ستَم کے مقابل جو ڈٹ کر کھڑا ہے
وہی وقت کا اصل سلطان ٹھہرا
جو مٹ کر بھی تاریخ میں جی رہا ہے!

0
4