جب لوگ بھلانے لگتے ہیں
پھر خواب ستانے لگتے ہیں
کیوں ترکِ محبت کرتے ہو
کب اس پہ خزانے لگتے ہیں
تو آ جا تیرے آنے سے
کچھ درد ٹھکانے لگتے ہیں
یہ داغ وفا کے نہیں دھلتے
یہ داغ پرانے لگتے ہیں
تم پاس نہیں جب ہوتے تو
غم آنے جانے لگتے ہیں

0