| ہیں وطن کے نصیب پتھر کے |
| اور اس کے طبیب پتھر کے |
| اپنے جیسا ہمیں بھی کر لیں گے |
| یہ بکاؤ ادیب پتھر کے |
| شہر یاروں کے دیکھ کر کرتوت |
| ہو گئے ہیں غریب پتھر کے |
| نرم شاخوں پہ دل کی آ بیٹھے |
| آج کچھ عندلیب پتھر کے |
| پک گئے کان فتوے سن سن کر |
| مولوی ہیں عجیب پتھر کے |
| جونک بن کر چمٹ گئے عادل |
| ہیں تو سارے خطیب پتھر کے |
معلومات