| تختِ شاہی پلید رکھا ہو |
| حق کا رتبہ شدید رکھا ہو |
| بستیاں بھوک سے بلکتی ہوں |
| اور محل میں کلید رکھا ہو |
| جس کے ہاتھوں میں طوقِ شاہی ہو |
| اس نے خود کو یزید رکھا ہو |
| جس کا رستہ ہو تیرگی کا سفر |
| نام اس کا نوید رکھا ہو |
| کون سچ کی گواہی دے گا یہاں |
| جب زبانوں پہ بید رکھا ہو |
| آستینوں میں سانپ پلے ہوں |
| دل میں بغضِ شدید رکھا ہو |
| بات کیسے بنے گی غیرت کی |
| دل جو اپنا بے دید رکھا ہو |
معلومات