| افسوس ہے کہ اس کی محبت بکھر گئی |
| بن اس کے زندگی مری کیسے گزر گئی |
| پل بھر میں اس نے کیسے ہے مجھ کو بھلا دیا |
| ہلکی سی اک کسک تھی جو دل میں اتر گئی |
| صورت فقط نہیں تری سیرت بھی خوب ہے |
| نظروں سے پار ہو کے اثر دل پہ کر گئی |
| مجنوں سے کوئی کہہ دے کہ صحرا سے لوٹ آئے |
| تنہا یہاں پہ ہجر میں لیلیٰ تو مر گئی |
| پھرتا تھا روز و شب جو پریشان شہر میں |
| صحرا میں آ کے عشق کی قسمت سنور گئی |
| حائل نظر میں کب ہوئی راتوں کی تیرگی |
| تھا عاشقی کا نور جہاں تک نظر گئی |
| جنت کا عکس تھا مرے آنگن کے بیچ میں |
| پھر دور تک وہ رات کی رانی بکھر گئی |
معلومات