دشت میں آج بھی ہر سو گونج تمہاری ہے
نام کمانا بھی تو اک فنکاری ہے
ڈھونڈ رہا ہوں امن، دیارِ ہستی میں
ہر لمحہ حساس دلوں پر بھاری ہے
کام برا ہو، ہوتا ہے انجام برا
زور و شور سے مجھ میں ورد یہ جاری ہے
کون کٹہرے میں لائے گا مجرم کو
اس کے سر پر تو چھتری سرکاری ہے
حق پہ مروں یا جان بچاؤں اپنی میں
جنگ یہی اک دل و دماغ میں جاری ہے

0
3