محبت کی کہانی میں عجب کچھ موڑ آتے ہیں
پرندے آشیاں اپنا اکیلا چھوڑ آتے ہیں
ملی ہے ہجرتوں سے بس ہمیں یہ عمر بھر کی ٹِیس
مسافر دور پردیسوں میں ناطے توڑ آتے ہیں
جہاں مٹی کی خوشبو اور اپنوں کی محبت ہو
مسافر سب وطن کی سمت ہی پھر دوڑ آتے ہیں
دلوں کے ٹوٹنے کا درد بھی سہنا ہی پڑتا ہے
محبت کے سفر میں لوگ رِشتے جوڑ آتے ہیں
جدائی کی کڑی دھوپوں میں جلنا بخت ہے ان کا
جو اپنے سر پہ یادوں کے سے بادل اوڑھ آتے ہیں
جو جاکر دور بستی میں بہت روتے ہیں وہ عادل
جو اپنے دیس میں ہنستا ہوا گھر چھوڑ آتے ہیں

0
4