یہ آنکھ نم حُسَین کے لیے ہی ہے
ہمارا غم حسین کے لیے ہی ہے
درود اور سلام پڑھ رہا ہوں میں
یہ محترم حسین کے لیے ہی ہے
کہا عدو نے کربلا کی خاک پر
کہ ہر ستم حسین کے لیے ہی ہے
میں بادشاہ کی ثنا میں کیوں لکھوں
مرا قلم حسین کے لیے ہی ہے
خدا کا جس قدر ہے میری ذات پر
وہ سب کرم حسین کے لیے ہی ہے

0
4