ہے یہ امید نیا دور سنہرا ہو گا
اب سیاست پہ بھی جمہور کا پہرا ہو گا
تخت پر بیٹھے گا جب تخت کے قابل کوئی
رہزنوں کے لیے پھر پیش کٹہرا ہو گا
اب سنی جائے گی مظلوم کی فریاد یہاں
اب کے قانون کبھی ان دھا نہ بہرا ہو گا
اب نہ آئے گا کبھی اس پہ خزاں کا موسم
دائمی موسمِ گل باغ میں ٹھہرا ہو گا
بے حسی چھوڑ، کریں درد جو اک دوجے کا
رنگ اخلاص کا احباب پہ گہرا ہو گا

0