| گلی گلی میں ترے نقشِ پا کو ترسے ہیں |
| مریضِ عشق ہیں، اب ہم دوا کو ترسے ہیں |
| تھے مٹی کے ڈھیر، اذنِ بقا کو ترسے ہیں |
| قفس کے قیدی تھے، ہم تو ہوا کو ترسے ہیں |
| محبتوں میں عجب کربلا کو ترسے ہیں |
| دلوں کے پاس تھے لیکن وفا کو ترسے ہیں |
| نہ پوچھ کیسے کٹی رات انتظارِ سحر |
| کبھی چراغ کو، اور پھر صبا کو ترسے ہیں |
| عجب سرابِ محبت میں عمر بیت گئی |
| وہ پیاسے لوگ تھے لیکن گھٹا کو ترسے ہیں |
| ہمیں تو راس نہ آئی یہ کائناتِ جفا |
| ہم اہل_دل تھے مگر التجا کو ترسے ہیں |
| ملی ہے دشتِ تمنا میں یوں ہمیں تسکین |
| دوا ملی ہے مگر ہم شفا کو ترسے ہیں |
| کبھی سکوں کو کبھی دلربا کو ترسے ہیں |
| ڈسے جو عشق نے اپنی قضا کو ترسے ہیں |
| جلا کے بیٹھے ہیں دل میں امید کا اک دیپ |
| اندھیری رات میں نورِ خدا کو ترسے ہیں |
معلومات