دیس پھر ایک نظر دیکھ لیا
باپ دادا کا نگر دیکھ لیا
ان سے اب مل تو نہیں سکتا میں
ان کی قبروں کو مگر دیکھ لیا
یاد ماں باپ کی آتی تھی مجھے
جا کے ماں باپ کا در دیکھ لیا
خواب آتے تھے مجھے جس گھر کے
کچی اینٹوں کا وہ گھر دیکھ لیا
اب بھی روشن ہیں دیے خوشیوں کے
خوبصورت ہے سحر، دیکھ لیا
فاصلوں سے بھی وفا کرنے کا
مجھ کو آتا ہے ہنر، دیکھ لیا؟

0
3