گناہوں پہ دل اب پشیمان ہے بس
خدایا ترا ہی یہ احسان ہے بس
زمانہ مخالف ہوا ہے تو کیا غم
بہت ہے اگر ساتھ رحمان ہے بس
ترا آسرا مجھ کو کافی ہے مولا
عدو اس حقیقت سے انجان ہے بس
جہاں میں ہے اب نفسا نفسی کا عالم
سکوں تیری جانب سے وردان ہے بس
دعا ہے کہ انجام حق پر ہو میرا
اسی فکر میں دل پریشان ہے بس
میں بھٹکا نہیں ہوں کبھی سیدھی رہ سے
مرا راہبر تیرا قرآن ہے بس
بھروسہ نہیں مجھ کو اپنے عمل پر
کرم پر ترے، میرا ایمان ہے بس
گنہ گار کو اپنی بخشش عطا کر
ترے واسطے تو یہ آسان ہے بس

0
4