| عجب دستور دیکھا ہے یہاں آنے یا جانے کا |
| کسی کو ہوش ہی کب ہے کسی کا سوگ کرنے کا |
| ہمارے بعد بھی یہ شہر ویسا ہی رہے گا اب |
| کسی کے پاس فرصت ہے بھلا آنسو بہانے کا |
| جنازہ اٹھ گیا اور بھیڑ اپنے کام پر لوٹی |
| نہ تکیہ موت کا ہے اور نہ پروا ہے زمانے کا |
| یہ دنیا کارِ دنیا میں لگی ہے، بس ہوس ایسی |
| کوئی رستہ نہیں ملتا یہاں خود سے نکلنے کا |
| چلے جائیں گے ہم بھی ایک دن خاموشیوں کے ساتھ |
| کہ سب مصروف ہیں، اب وقت کس کے پاس رونے کا |
| دکھا کر بے حسی اپنی، چلی جائے گی یہ دنیا |
| نہ کرنا گلہ لوگوں سے کوئی عادل! بھلانے کا |
معلومات