دلِ ناداں کو کوئی نقشِ قدم مل جائے
تیرے ملنے سے ہر اک رنج و الم مل جائے
ہم نے صحرا میں گزاری ہے جو عمرِ رفتہ
کاش اس دشت کو اب زلفِ صنم مل جائے
لوگ کہتے ہیں کہ دنیا میں اندھیرا ہے بہت
روشنی تجھ سے ملے، نورِ حرم مل جائے
تیرے کوچے سے جو گزرے تو یہ محسوس ہوا
جیسے بھٹکے ہوئے راہی کو اِرم مل جائے
جامِ مے ہو کہ ترا ذکرِ سحر ہو ساقی
جس سے تسکینِ دل و روح و کرم مل جائے
ہم نے لفظوں میں ہے پرویا تری یادوں کو
تاکہ اس فکر کو اک طرزِ رقم مل جائے
دشت غربت میں عجب عالمِ تنہائی ہے
کاش اک بار ترا دستِ کرم مل جائے

0
4