ان لیڈروں کی آپ ذلالت تو دیکھیے
شہرت کی حرص، مال کی حسرت تو دیکھیے
خود کھائیں مال قوم کا، پھر الٹا قوم سے
مانگیں یہی حساب بھی جرات تو دیکھیے
خود چور کوتوال کو ڈانٹے عجیب ہے
اس صادق و امیں کی سیاست تو دیکھیے
کر کے ہمارے مال سے ہم پر عنایتیں
خود کو سخی کہیں گے سخاوت تو دیکھیے
جس جا سے ہم چلے تھے وہیں پر کھڑے ہیں آج
کیوں طے نہیں ہوئی ہے مسافت تو دیکھیے
نازک ہے موڑ جس پہ کھڑا ہے ابھی وطن
نازک سے موڑ کی بھی طوالت تو دیکھیے
روٹی مکان اور نہ کپڑا دیا ہمیں
ہم نے کیا یقین حماقت تو دیکھیے
ہیجان میں عوام کو رکھتا ہے میڈیا
یہ بیچتے ہیں جھوٹ صحافت تو دیکھیے

0
1