وہ مستیوں میں ہیں کش پہ کش جو لگا رہے ہیں
وہ پہلے سگرٹ سے اگلا سگرٹ جلا رہے ہیں
عجیب خصلت ہے آدمی ہو کے اپنے منہ سے
دھواں یہ بھٹے کی چمنیوں سا اڑا رہے ہیں
ہے شوق کیسا جگر دھویں سے ہی پھونک ڈالا
خود اپنے ہاتھوں سے روگ خود کو لگا رہے ہیں
کئی تو فیشن سمجھ کے پیتے ہیں دیکھا دیکھی
ہے کیسا فیشن کہ زہر پی کر دکھا رہے ہیں
پرانے پاپی، جنہیں ہے بیماریوں نے جکڑا
وہ خامیوں پر لہو کے آنسو بہا رہے ہیں
کئی تو بھرتے ہیں اس نشہ میں مزید بھی کچھ
کہ اب نشے کی وہ اگلی منزل پہ جا رہے ہیں
نشہ جوانوں کی ہڈیاں تک نچوڑتا ہے
سو نوجوانی میں ہی کمر کو جھکا رہے ہیں

0
10