تھا نشیبِ راہ میں ایسا بھی اک منظر کھلا
دھندلا سایہ کوئی رستے میں ہی آ کر رک گیا
ایک پل کو حرکتِ پیہم تھی اور اگلے ہی پل
سامنے شیشے کے بس اک خوف کا عالم رہا
تھا ہمارے بچپنوں کا وہ کوئی موسم کہ جب
آسماں نیلا تھا یا پھر ہر طرف ماتم رہا
کچھ چھپائے منہ کھڑے تھے قبر کے ہی پاس وہ
آسماں کی سمت ان کی رائفل کا رخ رہا
ہم نے ان لاشوں کی کھالیں تک اتاریں اس طرح
ماں نے رسی پر جو ان کو سوکھنے کو ٹانگا تھا
اب بہاروں میں وہ کھالیں گھاس پر اڑتی نہیں
وقت کا پہیا تو دیکھو کس طرح چلتا رہا
اب تو اس کے ہجر سے ایندھن کا تھیلا کھینچ کر
لوٹتا ہوں میں اسی رستے پہ جو سنسان تھا

0
1