| قسمیں کھا کر بات سے اپنی مکر گیا ہے |
| وعدہ خلافی میں وہ حد سے گزر گیا ہے |
| کتنے سال ضمیر رہا بے ہوش مرا |
| اس پہ مسلسل محنت کی تو سدھر گیا ہے |
| تیر و تَبَر سے کام لیا پھر میں نے بھی |
| پیار کا ہر اک وار جہاں بے اثر گیا ہے |
| ہجر میں کب تک اشک بہائے یاد نہیں |
| آخر اک دن آنکھ کا پانی اتر گیا ہے |
| میری انا نے دستک یا آواز نہ دی |
| تیرے در سے چپکے سے ہی گزر گیا ہے |
معلومات