| اجازت چار کی، اک پر گزارا ہے |
| ڈرے سہمے ہوئے مردو! خسارہ ہے |
| کہیں کا بھی نہیں چھوڑا ہے بیوی نے |
| عزیزوں دوستوں سے بھی کنارا ہے |
| سبھی قانون ہی عورت کے حق میں ہیں |
| کہ مردوں کو فقط رب کا سہارا ہے |
| ابھی خوش باش تھیں بیگم، خدایا خیر |
| اچانک مجھ کو غصے سے پکارا ہے |
| بنا غلطی کے بیگم نے مجھے ڈانٹا |
| نہ جانے کون سا غصہ اتارا ہے |
| بہت کڑوا ہے یہ شادی کا لڈو دوست |
| سمجھ پائے گا کیسے جو کنوارا ہے |
معلومات