ہے نہاں راز کچھ فغان میں کیا
آگ ہے اب جو گلستان میں کیا
جس کی خاطر میں در بدر پھرتا
وہ ملے گا اب اس مکان میں کیا
اب کسی سے بھی دل نہیں ملتا
بھر گیا زہر خاندان میں کیا
خاک اڑتی ہے ہر گلی میں اب
رہ گیا ہے اب اس جہان میں کیا
اب کہاں وہ خلوص و مہر و وفا
دیکھتے کیا ہو اس نشان میں کیا
کیوں عبث ڈھونڈتے ہو اب عادل
کوئی جذبہ ہے اس جوان میں کیا

0
5