سب چور مرے شہر کے نگران ہوئے ہیں
دشمن ہی مری جاں کے نگہبان ہوئے ہیں
ہر ایک برائی کی شروعات ہے ان سے
جتنے ہیں برے سب ہی وزیران ہوئے ہیں
مذہب کی لیے آڑ مقاصد یہ نکالیں
امت کی مصیبت یہی شیطان ہوئے ہیں
اترا ہے لبادہ جو ابھی شرم و حیا کا
دیکھی جو حقیقت سبھی حیران ہوئے ہیں
منزل کو نہیں جاتی، کوئی ان کو بتائے
جس رہ پہ روانہ یہ مسلمان ہوئے ہیں
اخلاص سے عاری ہیں یہ مطلب کے پجاری
انسان مرے دور کے حیوان ہوئے ہیں

0
5