ہم درد کا اک دیپ جلانے میں لگے ہیں
اور کچھ یہاں طوفان اٹھانے میں لگے ہیں
برباد کیا، راکھ اڑی، شہر جلے سب
اب آگ کے شعلوں کو چھپانے میں لگے ہیں
انصاف کی مٹی کو تو خود روند دیا ہے
اور عدل کا اک سوانگ رچانے میں لگے ہیں
پہچان مری چھین کے کہتے ہیں وہ مجھ سے
ہم نام ترا جگ میں بنانے میں لگے ہیں
اک عمر ہوئی، ہم کو مٹانے کی ہے کوشش
نادان مگر خود کو مٹانے میں لگے ہیں
محرومِ نوا کر دیا معصوم کو عادل
اب باغ میں خوشبو کو بسانے میں لگے ہیں

0
4