وقت پرانا یاد ہے تم کو گھر جب کچے ہوتے تھے
لوگ یہاں پر بسنے والے سیدھے سادے ہوتے تھے
ریل جہاز سکوٹر گاڑیاں دیکھنے کو کب ملتی تھیں
سفر کی خاطر عام یہاں پر گھوڑے تانگے ہوتے تھے
ٹوٹے پھوٹے رستوں پر جب تیز سواری چلتی تھی
زور کے جھٹکے لگتے تھے پر تب وہ جھولے ہوتے تھے
رنگ برنگی نازک تتلیاں پھولوں کو مہکاتی تھیں
باغوں میں پھل پھول ہمیشہ کتنے اچھے ہوتے تھے
فون نہیں تھا جب تو کتنا وقت اضافی ہوتا تھا
لوگ ا کٹھے بیٹھتے تھے اور خوب تماشے ہوتے تھے

0
3