عشق ہی اب دین ہے اور عشق ہی ایمان ہے
چہرہِ جاناں مری ہر سانس کا سامان ہے
غیر کو میں "تو" کہوں، یہ تو نہیں ممکن یہاں
بندگی کا راز اب بس خسروِ دوران ہے
عشق میں مٹ ہی گئی دنیا و عقبیٰ کی تمیز
مجھ پہ اب روزِ ازل اور عاقبت آسان ہے
دل میں کینہ ہو نہ غصہ، حق کی آواز آئے گی
حق کی یہ آواز ہی ہر درد کا درمان ہے
تیرے در سے میں جدا ہو کر جیوں، ممکن نہیں
جسم بے شک مر مٹے، پر ساتھ تیری جان ہے
بھیج کر دنیا میں مجھ سے اس نے فرمایا تھا دیکھ!
دیکھ لی دنیا مگر یہ خواب کا سامان ہے
وعدہِ جنت تھا کل کا، دوستوں کو مل گیا
وہ مری خاطر تو میرا "آج" ہی رضوان ہے
عشق کو امروز و فردا کی نہیں پروا کوئی
اب حریمِ یار ہی عاشق کا بس سامان ہے

0
8