مذاہب کے د لالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
عداوت کے حوالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
اگر سچ بولنا بالکل گوارا ہی نہیں تم کو
تو پھر جھوٹے سوالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
بپا فتنہ کیا جمہوریت کے نام پر سب نے
سو جذباتی جیالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
سبھی کو آزما بیٹھا ہوں میں تو ووٹ دے دے کر
اب ان شیطانی چالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
فریضہ یہ سمجھتا ہی نہیں میری حفاظت کو
محافظ کے خیالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
جنونی سا ہوا پھرتا ہے سارا شہر دیکھو تو
انہی برباد حالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
ترے قاتل خیالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
سبھی تاریک اجالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
لیے پھرتا ہے خنجر ہر طرف کوئی نہ کوئی اب
لگے فتووں کے جالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
عمل کرتا نہیں تعلیم کے ہوتے ہوئے کوئی
تبھی ذہنوں کے تالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
جو دیکھوں عیدِ قرباں پر میں چھینا جھپٹی لوگوں میں
تو قربانی کی کھالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
کریں تقسیم رنگ و نسل کی بنیاد پر جو لوگ
ستمگر من کے کالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
کہیں مندر، کلیسا، چرچ یا مسجد جلاتے ہیں
تعصب کے د لالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
بیاں کر دوں حقیقت کھول کر ساری کی ساری میں
مگر حاکم کی چالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے

0
5