| نہ ہوتے اشک آنکھوں میں تو افسانے کہاں جاتے |
| اگر دِل ہی نہ دُکھتا تو یہ دیوانے کہاں جاتے |
| وفا کی راہ میں اس نے بدل کر راستہ اپنا |
| بڑا احسان کیا، ورنہ وہ پہچانے کہاں جاتے |
| محبت کی حقیقت کو چھپانا تو بہت چاہا |
| مگر یہ چاکِ دامن اور یہ مستانے کہاں جاتے |
| چلو اچھا ہوا دُنیا نے ہم کو چھوڑ ہی ڈالا |
| اگر مل جاتا سب کچھ تو صنم خانے کہاں جاتے |
| ہمارے ظرف نے رکھ لی تمہاری بے رخی کی لاج |
| نہ سہتے ہم جفا تو یہ ستم خانے کہاں جاتے |
| تمہیں کو ڈھونڈتی ہیں اب بھی میری اجنبی نظریں |
| اگر تم بھی نہ ملتے، دِل کے ویرانے کہاں جاتے |
معلومات