| اے دیس کیا کروں ترے نصیب جل گئے |
| وہ جو وفا شعار تھے قریب جل گئے |
| پلے تھے وحشتوں میں وہ محبتوں سے دور |
| محبتوں سے دل کے سب غریب جل گئے |
| جواب دے چکے تھے میرا روگ دیکھ کر |
| سو تندرست دیکھ کر طبیب جل گئے |
| کوئی ضمیر جاگنے کی آس اب نہیں |
| لگی وہ آگ شہر میں ادیب جل گئے |
| چمن میں دیکھ کر مجھے وہ خوش تو تھے مگر |
| گلوں کو چھو لیا تو عندلیب جل گئے |
| سفیرِ عشق تیری برکتیں کمال ہیں |
| ترا خطاب سن کے سب خطیب جل گئے |
| سنائے فتوے کافری کے عشق پر مجھے |
| دھرا نہ میں نے کان تو رقیب جل گئے |
معلومات