ذرا قابو سے باہر دل ہوا تھا
سنبھلنا پھر بہت مشکل ہوا تھا
چلا جب گھر سے تو میں تھا ادھورا
میں راہِ عشق میں کامل ہوا تھا
ہوا دشمن جہاں والوں کا میں تو
ترے یاروں میں جب شامل ہوا تھا
نہیں تھا سہل دنیا سے نکلنا
یہاں بچپن میں میں داخل ہوا تھا
تمہارے ہجر میں مرنے کا مجھ کو
نیا اک تجربہ حاصل ہوا تھا

0
2