| جتنے دل بھی چاہت سے ویران رہے |
| زیست کے اصلی لطف سے وہ انجان رہے |
| در در گھومے رزق کی خاطر دنیا میں |
| کچھ پل اپنے گھر بن کر مہمان رہے |
| کیا کھویا کیا پایا، جان کے کیا لینا |
| کیوں بندہ یہ سوچ کے خود حیران رہے |
| خاموشی ہی وقت کا ایک تقاضا تھا |
| گرچہ اٹھتے اس دل میں طوفان رہے |
| خواب ادھورے چھوڑ کے روٹی پوری کی |
| اپنے حصے میں سمجھو نقصان رہے |
| ہوش کے ناخن کس کو جلدی آتے ہیں |
| اور یہاں تو دانش کے بحران رہے |
| سب ہی وقت کے ساتھ چلے چالاک ہوئے |
| ہم معصوم ہمیشہ ہی نادان رہے |
معلومات