| جان دھرتی کے قدموں میں سب دھر گئے |
| وہ جو کہتے تھے 'مر جائیں گے' مر گئے |
| زندگی تجھ کو پانے کی کوشش میں ہم |
| موت کی وادیوں کو بھی سر کر گئے |
| سب ہیں دہشت زدہ ہر طرف ہے لہو |
| شہرِ جاناں سے چاہت کے منظر گئے |
| تیرے زخموں کا کیا ہو اذیت پسند |
| پھر کریدے کا ان کو اگر بھر گئے |
| آس کا دیپ ان میں جلائے گا کون |
| وہ جو بے نور آنکھیں لیے گھر گئے |
معلومات