| پردیس میں ہوں گرچہ بہت دور وطن سے |
| تعلیم وفاداری کی مجھ کو ہے چمن سے |
| مر کر بھی فسادی نہیں بن پاؤں گا میں تو |
| آئے گی مہک امن ہی کی میرے کفن سے |
| مجھ پر تم اگر کفر کے فتوے بھی لگاؤ |
| پھوٹے گی صدا پیار کی بس میرے سخن سے |
| گلدان ہوں زندان میں رکھ دو مجھے چاہے |
| الفت کے سدا پھول کھلیں گے مرے من سے |
| غدار وطن ہی کا لقب چاہے مجھے دو |
| ہے عشق مجھے دیس کے سب کوہ و دمن سے |
| اے ہم وطنو! دیکھ لو تم خون بہا کر |
| میرا بھی لہو لال ہی نکلے گا بدن سے |
| اس پاک وطن کے لیے میری یہ دعا ہے |
| خوشیاں ہی برستی رہیں اس نیلے گگن سے |
معلومات