ترے خیال نے پھر دل کو بے حساب کیا
وہ میری ہجر بھری راتوں کو گلاب کیا
ہر ایک سانس میں خوشبو تری بکھرنے لگی
تری نگاہ نے موسم کو کامیاب کیا
میں اپنے زخم لیے پھر رہا تھا شہروں میں
تری صدا نے مجھے صاحبِ کتاب کیا
جو تیرگی تھی مرے گرد، چھٹ گئی یکسر
تری ہنسی نے اندھیروں کو آفتاب کیا
کبھی جو دل نے تمنّا کی تیرے قربت کی
تو وقت نے بھی مجھے بے حد اضطراب کیا
یہ اور بات کہ دنیا مخالفِ دل تھی
تری وفا نے مگر جینے کا نصاب کیا
ہر ایک شخص یہاں اپنی ذات میں گم تھا
تری ادا نے محبت کو انتخاب کیا
میں تشنۂ وفا تھا مدتوں سے ہی تو مگر
اسی خیال نے جینا مرا ثواب کیا

0
3