خود اپنے ہی وجود کا ملبہ ہوا ہوں میں
جس سے نکل سکا نہ وہ قضیہ ہوا ہوں میں
ہر شخص اپنے غم کی تلافی میں مست ہے
کس نے یہ کہہ دیا کہ مسیحا ہوا ہوں میں
اک عمر کٹ گئی ہے اسی دشتِ زار میں
اب جا کے اپنے سے بھی شناسا ہوا ہوں میں
دیکھا ہے میں نے ہنس کے زمانے کی اوٹ سے
لوگوں کی تو نظر میں تماشہ ہوا ہوں میں
پہلے تو میرے زخم کی قیمت تھی شہر میں
اب یہ ہے حال، مفت کا سودا ہوا ہوں میں
اب کس کو جا کے سچ کا یقیں یہ دلائے دل
ہر ایک کی نگاہ میں جھوٹا ہوا ہوں میں
اے گردشِ حیات! مجھے اب نہ دے فریب
دنیا کے حادثات سے عاقل ہوا ہوں میں
وہ مجھ کو پا کے اب بھی پشیمان ہی رہا
جس کی طلب میں خاک کا ذرہ ہوا ہوں میں

0
6