| مزاجِ یار میں جو بے رخی بہت ہے اب |
| سو بزمِ دوستاں میں خامشی بہت ہے اب |
| کسی کی آس نہ رکھنا سنبھل کے چلنا خود |
| کہ اہل شہر میں تو بے حسی بہت ہے اب |
| لہو لہان ہیں غمگین ہیں سب اہل چمن |
| کوئی وسیلہ نہیں بے بسی بہت ہے اب |
| وہ جس کا شور تھا جانے کہاں ہے تبدیلی |
| وطن میں عام یہ دھوکہ دہی بہت ہے اب |
| یہی تو کرب ہے تذلیل کیوں ہے انساں کی |
| بغیر دام کے محنت کشی بہت ہے اب |
| کہاں ہو درد کہ دل ہی نہیں ہے لوگوں میں |
| اسی لیے تو یہاں بے دلی بہت ہے اب |
معلومات