سکوتِ شام میں گہری وہ بات ہو گئی ہے
سفر میں ایسی کٹھن اب کے رات ہو گئی ہے
عجیب رنگ جو بدلا ہے اب کے موسم نے
اسی سے ملنا تو اب کیا وہ بات ہو گئی ہے
پلٹ کے دیکھوں تو رستے دکھائی دیتے نہیں
وہ جس کے نام کی اب یاد ساتھ ہو گئی ہے
میں اپنے آپ کو ڈھونڈوں تو اب کہاں ڈھونڈوں
تمہاری ذات ہی میری بھی ذات ہو گئی ہے
ہزاروں خواب پرندوں کی طرح اڑنے لگے
یہ جب سے قریہِ جاں میں ہی بات ہو گئی ہے

0
6