نہ خون و گوشت سے مطلب، نہ اس کا ہے خدا طالب
جو پہنچا ہے وہ خالق تک، ہے دل کا سلسلہ طالب
خلیل اللہ نے ہم کو سکھایا ہے یہی نقطہ
جو ہو محبوب سب سے، چھوڑ دے اس کو رضا طالب
حقیقی بندگی یہ ہے، جھکا دے نفس کو اپنے
خدا کے حکم کے آگے، مٹا حرص و انا طالب
ملے گا تب سکوں، جو تو کرے گا ضبط جب خود پر
نہیں نفسِ امارہ سے، ہو جس کا دل ہٹا طالب
زباں پر ہو سدا سچائی، اور آنکھوں میں غیرت بھی
بنے انسان کا دل نرم، ہو تو ہے صفا طالب
فقط حیوان کے کٹنے سے یہ قربانیاں کب ہیں؟
غرور و کبر کو کاٹے، جو ہو راہِ خدا طالب

0
5