جو موزوں مرے مجھ سے حالات ہوتے
بیاں خود پہ گزرے جو صدمات ہوتے
جواب ان کا جانے کہاں سے ملے گا
عجب سے ہیں دل میں سوالات ہوتے
نہیں چپ رہیں گے یہ آزاد پنچھی
کہاں قید سچے ہیں جذبات ہوتے
میں دیکھوں جدھر ایک ہیجان سا ہے
سیاست کے چرچے ہیں دن رات ہوتے
اگر میں لٹیرا تری طرح ہوتا
مرے ساتھ گن مین چھ سات ہوتے
جدا سب سے اپنے خیالات ہوتے
تو پھر کیوں نہ پیدا یہ خدشات ہوتے؟
عدالت سے ملتا جو انصاف سب کو
نہ مظلوم ہاتھوں میں خدشات ہوتے
یہ بستی ہے نابینا لوگوں کی بستی
نہ سنتے یہ کوئی بھی نغمات ہوتے
بدل جاتی مٹی بھی سونے میں شاید
جو مخلص ہمارے مقامات ہوتے
وہ مٹی کا چولہا بھی بجھنے نہ پاتا
جو حاکم کے اچھے کمالات ہوتے
اگر روشنی بانٹتا ہر کوئی دل
نہ یادوں کے تِیرہ مقامات ہوتے
خیالوں کی دنیا سے باہر نکل کر
جو جیتے تو روشن کمالات ہوتے

0
4