| حسین زیست کی تب جستجو نہیں کی تھی |
| حسین شخص سے جب گفتگو نہیں کی تھی |
| وہ مسکرا کے ہمیں جو دعائیں دیتا ہے |
| فقط ہے رب کی عطا، آرزو نہیں کی تھی |
| شفیق، پیار مجسم، سدا اسے جانا |
| مگر یہ بات کبھی رو برو نہیں کی تھی |
| اسے خیال ہمارا تھا اور ہم نے بھی |
| کسی کمی پہ کبھی ہاؤ ہو نہیں کی تھی |
| ہمارے دور میں تھا باپ کا مقام بہت |
| خراب اس کی کبھی آبرو نہیں کی تھی |
معلومات