| درپیش ہمیں ہجر کے آزار بہت تھے |
| الفت کے سبھی راستے دشوار بہت تھے |
| بخشش نہ ہماری ہوئی دنیا کی نظر میں |
| ہم سے بھی بڑے صاحبِ کردار بہت تھے |
| شکوہ نہ شکایت ہے زمانے سے کوئی بھی |
| دل ٹوٹا ہے ہم خود بھی خطا کار بہت تھے |
| ٹوٹا ہوا اب دل جو سرِ راہ پڑا ہے |
| کل تک تو اسی دل کے خریدار بہت تھے |
| پاگل تھا ترے عشق میں خود کو جو گنوایا |
| ورنہ اسی عادل کے طلب گار بہت تھے |
معلومات