نہیں مجال کہ تجھ سے کبھی گلہ میں کروں
تری عطاؤں پہ بس شکر ہی ادا میں کروں
تری نگاہِ کرم بس مرا بھرم رکھ لے
ترے حضور اے مولا یہی دعا میں کروں
مرے گناہ پہ پردہ ہے تیری رحمت کا
تو کس طرح تری رحمت کا شکریہ میں کروں
کوئی بھی وقتِ ضرورت جو کام آ نہ سکے
سوا خدا کے کسی سے نہ التجا میں کروں
گناہ گار ہوں مولا خطا کا پتلا ہوں
معاف کرنا مجھے جب کوئی خطا میں کروں
میں شرم سار ہوں دامن میں نیک کام نہیں
خدا کی ذات کا کس منہ سے سامنا میں کروں

0
3