| مِل گیا سب کچھ مگر دل ہے کہ مژگاں نم کرے |
| اک عجب وحشت ہے جو راحت میں بھی ماتم کرے |
| آرزو تھی جن کی، اب ان سے گریزاں ہے یہ دل |
| کون اس سیماب جاں دل کا کوئی مرہم کرے |
| پہلے زنجیرِ تعلق کے لیے روتا تھا یہ |
| اب یہ چاہے گا کوئی اس قید کو مبہم کرے |
| عشق کی گہرائیوں میں کھو تو بیٹھے ہیں مگر |
| اب یہی دل ہے جو رسوائی کا اپنی غم کرے |
| زندگی تو نے دیے اتنے خسارے ہیں کہ اب |
| کوئی بخشش بھی اگر ہو تو اسے کم ہی کرے |
| پا لیا تم کو تو اب عادل کی سوچیں کچھ نہیں |
| مانگنے کو اور کیا اب رب سے یہ آدم کرے |
معلومات