دل کے بوجھ کو ہلکا کرنے، محفل ایک سجائی ہے
اصل میں ہم سب تنہا ہیں، یہ بھی کیسی تنہائی ہے؟
سامنے بیٹھے اپنوں سے اب بات نہیں کوئی کرتا ہے
ایکس کی اس نگری میں پر، ہر کوئی آہیں بھرتا ہے
لائکس اور کمنٹس کی خاطر، جذبوں کا بیوپار ہوا
اک تصویر کی خاطر بس ہر کوئی جان نثار ہوا
گھر کے در ویران پڑے ہیں، رشتوں میں دیواریں ہیں
اسپیسی رونق کے پیچھے، اک دوجے کی لگی آنکھیں ہیں
صبح سے لے کر شام تلک بس، انگلیاں چلتی رہتی ہیں
آنکھیں تھک کر سو جاتی ہیں، سانسیں چلتی رہتی ہیں

0
4