کِیا ہے جرمِ بغاوت، عذاب دیکھے ہیں
سماج کرتا ہے جو احتساب دیکھے ہیں
نصیب ہو نہ سکیں قربتیں ہمیں اس کی
ہماری آنکھ نے جس کے بھی خواب دیکھے ہیں
یقین آئے گا تم کو نہ میری چاہت پر
تمہاری آنکھ نے جتنے سراب دیکھے ہیں
کوئی پلیٹ میں دیتا نہیں ہے آزادی
لہو میں تر تھے سبھی انقلاب دیکھے ہیں
ہمارے ساتھ سے تم خوش نہیں ہو لگتا ہے
تمہارے چہرے پہ جو پیچ و تاب دیکھے ہیں

0
12